آج پوری دنیا میں اقوام متحدہ کے تحت خواندگی کے دن اس تلخ حقیقت کے ساتھ منایا جارہا ہے کہ 15 سال سے زائد عمر کی 18 فیصد (77 کروڑ 10 لاکھ) آبادی ناخواندہ ہے، 45 فیصد دو ممالک (34 فیصد چین اور 11 فیصد بھارت) میں رہتے ہیں۔ شرح خواندگی کے حوالے دنیا کے 180 ممالک میں پاکستان 162 ویں نمبر پر ہے۔ عالمی دن کے حوالے سے جنگ ڈویلپمنٹ رپورٹنگ سیل کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان شرح خواندگی میں دنیا کے 162 اور پرائمری کی تعلیم کے معیار میں 116 ممالک سے پیچھے، قیام پاکستان سے شرح خواندگی 16.4 سے 2009 تک 57 فیصد کی جاسکی، 74 فیصد شہری اور 48 فیصد دیہاتی جبکہ 69 فیصد مرد اور 45 فیصد خواتین خواندہ ہیں۔ عالمی معاہدوں کے تحت شرح آئندہ 5 برس میں 85 فیصد تک کرنا ہے۔ ملک میں 40 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے۔ راولپنڈی، ایبٹ آباد، کراچی اور کوئٹہ شرح تعلیم کے حوالے سے چاروں صوبوں میں اولین حیثیت رکھتے ہیں۔ شرح خواندگی کے حوالے سے 180 میں سے 162 ممالک پاکستان سے بہتر ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورمز گلوبل کمپیٹیٹیونس کے مطابق پرائمری ایجوکیشن کے معیار کے حوالے سے دنیا کے 134ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر117واں ہے۔ 20فیصد پاکستانی تعلیم کی سہولت سے محروم ہیں 1951ء میں ملک میں شرح خواندگی 16.4سے بڑھ کر 2009ء میں 57فیصد ہو چکی ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق 1972ء کی نسبت 2009ء میں صوبہ پنجاب میں شرح خواندگی 20سے بڑھ کر 59 سندھ میں 30سے بڑھ کر 59، خیبرپختونخوا میں 15سے بڑھ کر 50اور بلوچستان میں 10سے بڑھ کر 15فیصد ہو گئی۔ تازہ ترین سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈ میرمنٹ سروے 2008-09ء کے مطابق ملک میں شرح خواندگی 10)سال سے زائد آبادی میں ( میں شہروں میں یہ 74اوردیہات میں 48فیصد ہے۔مردوں میں یہ تناسب 69 اورخواتین میں 45فیصد ہے۔ پاکستان نے 2003ء میں ڈاکارڈیکلریشن پردستخط کئے تھے جس کے تحت 2015ء تک ملک میں شرح خواندگی 85فیصد تک کرنا ہوگی۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ملک کے مختلف اضلاع میں اگر شرح خواندگی کے جائزہ لیاجائے توصوبہ پنجاب میں راولپنڈی میں شرح خواندگی سب سے زیادہ 75فیصد ہے ،لاہور اورچکوال 73,73، گوجرانوالہ اورجہلم 69,69 گجرات 67، سیالکوٹ 64 ، اٹک 61، ٹوبہ ٹیک سنگھ 59 اورفیصل آباد میں شرح خواندگی 58فیصد ہے۔ پنجاب میں سب سے کم شرح خواندگی مظفرگڑھ میں 36، راجن پور ، بہاولپور اورحیم یارخان میں الگ الگ 40 اور ڈیرہ غازی خان میں شرح خواندگی 41فیصد ہے۔ سندھ میں سب سے زیادہ شرح خواندگی کراچی میں 78، سکھر 63، نوشہرو فیروز58، شکار پور 56اورحیدر آباد میں 53فیصد ہے۔جبکہ کم ترین شرح خواندگی والے اضلاع میں جیکب آباد 34فیصد، ٹھٹھہ 35، تھرپارکر 36، لاڑکانہ 38 اوربدین میں شرح خواندگی 42 فیصد ہے۔
بشکریہ از روزنامہ جنگ .......اسلامی جمہوریہ ایران اس فہرست میں ایک سو اکیسویں نمبر پر ہے اور خواندگی کی شرح 82.3 ہے جبکہ ایران شرح خواندگی کے لحاظ سے بیشتر افریقی اور ایشیائی ممالک کی نسبت بہتر پوزیشن میں ہے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے وقت ایران کی آبادی تقریباً تین کروڑ ساٹھ لاکھ اور شرح خواندگی 47 فیصد تھی جبکہ اس وقت ایران کی آبادی ساڑھے سات کروڑ اور شرح خواندگی 82.3 ہے۔